16 ستمبر 2012 - 19:30

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے امریکیوں کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی توہین پر مبنی فلم کی تیاری کی سازش پر مسلمانان عالم کے رد عمل کو دشمنان اسلام کے سامنے مسلمانوں کی یکجہتی کا مظاہرہ قرار دیا اور کہا: وہ اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کے عیسائیوں سے لڑانا چاہتے تھے لیکن مسلمانوں کے مناسب اور ہمآہنگ اقدام نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے اتوار (15 ستمبر 2012) کے دن قم المقدسہ کی مسجد اعظم میں درس خارج فقہ کے آغاز پر امریکہ میں اسلام دشمنی پر مبنی فلم کی تیاری اور نشر و اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ میں ایک فلم ایک صہیونی (عیسائی صہیونی) نے 50 لاکھ ڈالر کی رقم وصول کرکے بناکر نشر کی جو انتہائی شرمناک فلم ہے۔انھوں نے کہا: امریکیوں نے یہ فلم بناکر اپنی عزت و آبرو تباہ کردی۔انھوں نے کہا: امریکہ کے حکمران ابتداء میں اسلامی روشوں سے مصر میں داخل ہوئے تا کہ دنیا والوں کو بتائیں کہ مصر کی اسلامی بیداری ان کے مفاد میں ہے لیکن اس فلم اس فلم کو تیار کرکے اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقدسات کی توہین کرکے اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا اور اپنی گندگی اور ذلت کا ثبوت فراہم کیا۔ انھوں نے اس سازش کے مقابلے میں مسلمانوں کے رد عمل کو دشمنان اسلام کے سامنے مسلمانوں کی یکجہتی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا: وہ اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کے عیسائیوں سے لڑانا چاہتے تھے لیکن مسلمانوں کے مناسب اور ہمآہنگ اقدام نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔حوزہ علمیہ قم کے نامور استاد نے کہا: جو بھی ہالوکاسٹ اور نازی جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام کے افسانے کے بارے میں بات کرنے چاہے اس کو لائق سزا قرار دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا: امریکیوں نے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرکے اس کو بیان کی آزادی کا نام دیا اور اب اس کی مذمت نہیں کرتے لیکن اگر کوئی ہالوکاسٹ کے بارے میں اظہار خیال کرے تو اس کو سزا دیتے ہیں اور جیلوں میں بند کرتے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: قرآن اور اسلام کے دشمنوں کی منطق، توہین اور گستاخی ہے اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین پر مبنی فلم کی تیاری امریکیوں کی پستی اور رذالت کا ثبوت ہے۔ شیعہ مرجع تقلید نے آخر میں کہا: جو لوگ امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں انہيں اس واقعے سے عبرت لینی چاہئے اور جو لوگ اب بھی سوچتے ہیں کہ امریکہ اور صہیونی ریاست ان کی مدد کرسکتے ہیں وہ غلطی پر ہیں انہيں اس حادثے سے عبرت لے کر ان کے وحشی پن اور انسانیت کشی کی منطق کا ادراک کرنا چاہئے۔ …………/110